ابنا: صہیونی ریاست نے عالمی برادری کی خاموشی کے دوران غزہ پٹی پر اپنے حملوں کا سلسلہ از سر نو شروع کردیا ہے۔ غزہ پٹی پر گزشتہ ہفتے کے دوران صہیونی ریاست کے حملوں میں اب تک سولہ فلسطینی شہید اور دسیوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں صہیونی وزیر خارجہ اويگڈور لیبرمین نے کہا ہے کہ حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائيل فوج فلسطینیوں کی نابودی کے لۓ غزہ پر اپنے حملوں میں شدت پیدا کرے گی۔ دریں اثناء صہیونی ریاست کی جاسوسی تنظیم کے سابق سربراہ آوی دیختر نے غزہ پٹی پر دوبارہ قبضہ کرنے پر تاکید کرتےہوۓ کہا ہےکہ غزہ پر قبضہ کی کارروائی دو برسوں تک جاری رہے گے۔ اسرائيل نے غزہ پٹی کے محاصرے کے شکار فلسطینیوں پر دباؤ بڑھانے کے لۓ غزہ کے لۓ ادویات لے جانے والے کینیڈا اور آئرلینڈ کے دو امدادی بحری جہازوں کو بھی روک لیا ہے اور ان پر سوار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ صہیونی ریاست کے اس اقدام کے بعد فلسطین کے منتخب وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے غزہ کے لۓ امدادی سامان لے جانے والے بحری جہازوں پر اسرائیل کے حملے کو غیرقانونی اور جنگی جرم قرار دیتےہوۓ عالمی تنظیموں کی جانب سے ملت فلسطین کی امداد کۓ جانے پر تاکید کی ہے۔ دریں اثناء صہیونی ریاست نے حالیہ دنوں میں مغربی کنارے کے مختلف علاقوں پر اپنے حملوں میں شدت پیدا کردی ہے۔ ان حملوں میں اب تک دسیوں افراد زخمی اور گرفتار ہو چکے ہیں۔ سنہ دو ہزار اٹھ میں غزہ پٹی پر بائيس روزہ حملوں کے دوران اسرائيل کی شکست اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں اسرائيلی حکام کا فلسطینیوں کے سامنے جھکنے کی وجہ سے اسرائيلی حکام زیادہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں اور اسی وجہ سے وہ وحشیانہ تشدد کرنے لگے ہیں۔ اسرائیل کو حال ہی میں حماس تحریک کے ساتھ ایک سمجھوتے کی وجہ سے مجبورا چار سو ستتر فلسطینی قیدی آزاد کرنا پڑے ہیں۔ آج غزہ پٹی پر صہیونی ریاست کے حملوں کا سلسلہ ایسی حالت میں جاری رہا کہ جب سارے اسرائیل میں اقتصادی بدحالی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ غزہ پٹی پر صہیونی ریاست کے حالیہ حملوں کے بارے میں فلسطینی مجاہدین نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اور ان مجاہدین نے صہیونی ریاست کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوۓ صہیونیوں کے ٹھکانوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ جن کےنتیجے میں ایک صہیونی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگۓ ہیں۔ فلسطینی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر احمد بحر نے غزہ پٹی پر صہیونی ریاست کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوۓ کہا ہے کہ صہیونی ریاست ان حملوں کے ذریعے استقامت کے ہاتھوں کھانے والی اپنی شکستوں کا ازالہ کرنےکے درپے ہے۔ احمد بحر نے غزہ پٹی پر حملوں میں شدت پیدا کرنے کے سلسلے میں صیہونی حکومت کو خبردار کرتے ہوۓ کہا ہےکہ فلسطینی استقامت اپنی ملت کا دفاع کرنے پر قادر ہے۔ احمد بحر نے جہادی گروہوں کو صہیونیوں کو موقع فراہم نہ کرنے کے مقصد سے ہوشیاری اور مکمل آگاہی کی دعوت دیتے ہوۓ تاکید کی کہ خطے میں جنگ اور جھڑپوں کی ساری ذمے داری کی ذمے دار صہیونی ریاست ہے۔ دریں اثناء حماس اور جہاد اسلامی نے ایک بار پھر تاکید کی ہے کہ فلسطینی مجاہدین صہیونی ریاست کی جارحیت اور دھمکیوں کے مقابلے کے لۓ مکمل طور پر آمادہ ہیں اور وہ ماضی کی طرح غزہ پٹی پر حملوں کے بارے میں صہیونی ریاست کو ایک بار پھر پچھتاوے پر مجبور کردیں گے۔ ...........
/169